نئی دہلی،18/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی) 17 سال طویل قانونی جنگ کے بعد، فوج میں خواتین کو مساوی حقوق حاصل کرنے کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ نے پیر کو ایک اہم فیصلے میں کہا کہ وہ تمام خواتین افسران جو اس آپشن کا انتخاب کرنا چاہتی ہیں انہیں 3 ماہ کے اندر فوج میں مستقل کمیشن دیا جائے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ مرکز جنگی مورچوں کو چھوڑ کر دیگر شاخوں میں خاتون فوجی افسران کو مستقل کمیشن دینے کی پابند ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس اجے رستوگی کی بنچ نے مرکزی حکومت کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلہ پر روک نہیں لگائی تھی، پھر بھی مرکز نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو نافذ نہیں کیا۔عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ پر کارروائی نہ کرنے کی کوئی وجہ یا جواز نہیں ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے9 سال بعد مرکز 10 دفعات کے لئے نئی پالیسی لے کر آیا۔ بنچ نے کہا کہ مستقل کمیشن دینے سے انکار کرنا قدیم تصورات اور خواتین کے تئیں تعصبات کا نتیجہ ہے۔ خواتین مردوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کام کرتی ہیں۔ مرکز کی دلیلیں پریشان کرنے والی ہیں، جبکہ خواتین فوجی افسروں نے ملک کے افتخار میں اضافہ کیاہے۔ کورٹ نے کرنل قریشی اور کیپٹن تانیہ شیر گل وغیرہ کی مثال دی۔کورٹ نے خواتین کی جسمانی خصوصیات پر مرکز کے خیالات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے نقطہ نظر اور ذہنیت میں تبدیلی لائے۔ عدالت نے کہا کہ فوج میں صحیح مساوات لانی ہوگی۔ 30 فیصد خواتین واقعی لڑاکا شاخوں میں تعینات ہیں۔خیال رہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے 12 مارچ 2010 کو شارٹ سروس کمیشن کے تحت آنے والی خواتین کو کام میں 14 سال پورے کرنے پر مردوں کی طرح مستقل کمیشن دینے کا حکم دیا تھا لیکن ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف وزارت دفاع سپریم کورٹ پہنچ گئی تھی۔ہائی کورٹ کے فیصلہ کے 9 سال بعد حکومت نے فروری 2019 میں 10 محکموں میں خاتون افسران کو مستقل کمیشن دینے کی پالیسی بنائی۔ لیکن یہ کہہ دیا کہ اس کا فائدہ مارچ 2019 کے بعد سے سروس میں آنے والی خاتون حکام کو ہی ملے گا، اس طرح وہ خواتین مستقل کمیشن حاصل کرنے سے محروم رہ گئیں جنہوں نے اس ایشو پر طویل عرصہ تک قانونی جنگ لڑی تھی۔
فوج میں خواتین کیلئے ہوں گی کچھ تبدیلیاں: خواتین اب فوج میں کل وقتی طور پر کرنل یا اس سے اوپر رینک پر تعینات ہو سکتی ہیں۔جنگ یا دشمنوں سے مقابلہ کرنے والے کردار میں خواتین کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے، تو وہ اب بھی پیدل فوج، آرٹلری اور بکھتر بند کور میں شامل نہیں ہو سکتی ہیں۔ایک خاتون کرنل اب850 مردوں کی بٹالین کی کمان سنبھال سکتی ہے۔خواتین قابلیت کی بنیاد پر بریگیڈیئر، میجر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل اور نظریاتی طور پر فوج کے سربراہ کے عہدے تک بڑھ سکتی ہیں، لیکن یہ بہت سے جنگی ڈھانچے کی قیادت کرنے کے تجربے کے بغیر تقریبا ناممکن ہو گا، جس کو کافی وقت سے رد کیا جا رہا ہے۔ایک مکمل کرنل کے طور پر خاتون افسر کو آزاد کاموں کو کرنے کا حق ملتا ہے۔آپریشن کے تناظر میں بات کی جائے تو فوج میں ایک کرنل سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کرنل حکم دیتے ہیں، نافذ کرتے ہیں اور وہ مکمل طور پر دئیے گئے کام کے جوابدہ ہوتے ہیں۔